ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / فرانس میں دہشت گردانہ حملے، ایک سال بیت گیا

فرانس میں دہشت گردانہ حملے، ایک سال بیت گیا

Mon, 14 Nov 2016 10:45:48    S.O. News Service

پیرس ،13؍نومبر(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا)عالمی شہرت یافتہ گلوکار اسٹنگ آج پیرس کے باتاں کلاں کنسرٹ ہال کا دوبارہ افتتاح کریں گے۔ فرانسیسی سرزمین پر سب سے خونریز حملے میں اسلامک اسٹیٹ نے اسی مقام پر ایک برس قبل حملہ کرتے ہوئے نوے افراد کو ہلاک کر دیا تھا۔مشرق وسطیٰ میں سرگرم دہشت گرد تنظیم اسلامک اسٹیٹ کے جنگجوؤں نے جمعہ تیرہ نومبر سن 2015کی رات فرانسیسی دارالحکومت پیرس میں متعدد مقامات پر حملے کرتے ہوئے کُل130افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا تھا۔ شدت پسندوں نے سب سے پہلے اشٹٹ ڈی فرانس نامی اسٹیڈیم کے باہر تین خود کش حملے کیے، جن کے نتیجے میں ایک شہری ہلاک ہوا۔مقامی وقت کے مطابق رات نو بج کر بیس منٹ پر جب یہ حملہ کیا گیا، اس وقت اسٹیڈیم میں جرمنی اور فرانس کی قومی فٹ بال ٹیموں کے مابین میچ جاری تھا اور تماشائیوں میں فرانسیسی صدر فرانسوا اولانڈ بھی موجود تھے۔ امکان ظاہر کیا جاتا ہے کہ اگر حملہ آور اسٹیڈیم کی سکیورٹی کوعبور کرنے میں کامیاب ہو جاتے، تو اس حملے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد کہیں زیادہ ہو سکتی تھی۔مہاجرین کی آمدروکنے کے لیے یورپی یونین کی بیرونی سرحدوں کی نگرانی اور پیرس اور برسلز میں ہونے والے دہشت گردانہ حملوں کے تناظر میں سکیورٹی بڑھانے کے سلسلے میں آج یورپی کمیشن کی جانب سے تجاویز پیش کی جا رہی ہیں۔ بعد ازاں اسٹیڈیم پر حملے کے کچھ ہی منٹوں بعد شہر کے مشرقی حصوں میں مختلف مقامات پر فائرنگ شروع ہو گئی۔ مجموعی طور پر چھ چھوٹے ریستورانوں یا کیفیز کو نشانہ بنایا گیا۔ دس منٹ تک فائرنگ جاری رہی اور ان حملوں میں انتالیس افراد مارے گئے۔ دریں اثناء تین حملہ آوروں نے پیرس کے باتاں کلاں ہال پر دھاوا بول دیا، جہاں اس وقت ایگلز آف ڈیتھ میٹل نامی بینڈ کی پرفارمنس جاری تھی۔حملہ آوروں نے وہاں موجود افراد پر اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی اور تقریباً تین گھنٹے تک جاری رہنے والی لڑائی کے بعد اس ہال میں نوے افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔ پیرس حملوں میں مجموعی طور پر سترہ مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے130افراد ہلاک ہوئے۔فرانس میں ہونے والے ان حملوں کو ایک برس ہوچکاہے۔اس موقع پر راک موسیقی کے عالمی شہرت یافتہ گلوکار اسٹنگ ہفتہ بارہ نومبر کی رات باتاں کلاں ہال میں حملے کے بعد پہلا شو کریں گے، جسے علامتی اہمیت حاصل ہے۔ اس ہولناک رات اور حملے میں بچ جانے والے متدد افراد آج کے کنسرٹ میں شرکت کر رہے ہیں۔ بعد ازاں اتوار کے روز صدر فرانسوا اولانڈ اور پیرس کی میئر این ہیڈالگو حملوں میں ہلاک ہونے والوں کے ناموں کی تختیوں پر سے پردہ اٹھائیں گے۔خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے ایک تجزیے کے مطابق ان حملوں کی ذمہ داری اسلامک اسٹیٹ نے قبل کر لی تھی۔ داعش کے مطابق فرانس کو اس لیے نشانہ بنایا گیا کیوں کہ فرانسیسی فوج عراق اور شام میں دہشت گرد عناصر کے خلاف امریکی اور دیگر قوتوں کی اتحادی ہے اور وہ کارروائیوں میں شریک ہے۔ فرانس اس لیے بھی دہشت گردوں کا ہدف بنتا رہتا ہے کیونکہ وہاں کڑا سیکولر نظام ہے اور اسکولوں وغیرہ اور عام جگہوں پر برقعے اور دیگر مذہبی علامات کی نمائش پر پابندی عائد ہے۔ پیرس میں ہونے والے ان حملوں میں شامل کئی مجرمان فرانس کی مسلمان کمیونٹی کے ارکان تھے، جو انضمام کی ناکام کوششوں اور نسل پرستی جیسے عوامل کا شکار تھے اور ان حالات سے اکتا چکے تھے۔


Share: